19 جنوری 2016 - 06:46
ترکی کی ناپاک وجود سے کردوں کی جان خطرے میں

امریکہ کے سیاسی تجزیہ نگار نےکہاہےکہ انقرہ حکومت نےبدنام زمانہ تکفیری دہشتگردگروہ داعش کے خلاف جو نام نہاد جنگ چھیڑ رکھی ہے اسکا اصلی مقصد کردوں کو نشانہ بنانا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کےایک سیاسی مبصر ’’ولیم جونز‘‘نے پریس ٹی وی کےساتھ ایک انٹریو میں استنبول میں ہوئے حالیہ مہلک حملے کے بعد ترک حکام کی طرف سے بدنام زمانہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے خلاف نام نہاد جنگ کو ایک ڈھونگ اورفریب قراردیتے ہوئے کہاکہ حکومت انقرہ داعش کے خلاف جنگ کا بہانہ بناکر اصل میں کردوں کو نشانہ بنارہی ہے ۔

انہوں نےکہاکہ بدنام زمانہ تکفیری دہشتگر دگروہ داعش شام وعراق اوردیگر علاقائی ممالک کےساتھ ساتھ ترکی کی سالمیت کیلئے ایک بہت بڑا خطرہ ہے اوریہ حکومت انقرہ پر منحصر ہےکہ جو جنگ داعش کی آڑ میں کردوں کے خلاف لڑرہی ہے کواپنے دوہرے معیار کو تبدیل کرکے اپنے کردار کا ازسر نو جائز ہ لینا چاہئے۔

انہوں نےکہاکہ بدنام زمانہ تکفیری دہشتگرد گروہ داعش کے جو حکومت انقرہ کیلئے بھی خطرہ ہے کے خلاف ترک حکام سےکسی بھی کاروائی کی امید رکھنا ایک مہلک غلطی ہوگی کیونکہ حکومت انقرہ اپنے ہی تخلیق کردہ گروہوں کے خلاف کاروائی کرنے سے بالکل قاصر ہے ۔

موصوف تجزیہ نگار نے کہاکہ اگر انقرہ حکومت کردوں کے بجائے دہشتگرد گروہ داعش جوکہ اک مہلک خطرے کے طورپر ترکی کے سرپرمنڈلارہاہےکے خلاف مؤثر اقدامات کرے گی تو مشرق سطیٰ میں امن واستحکام قائم کرنے میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے ۔

انہوں نے داعش کے خلاف نام نہاد جنگ میں ملوث ممالک خاصکر ترکی اورحکومت آل سعود کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ یہ دونوں ممالک وہابی افکار کے ذریعے دہشتگردی کو پھیلانے میں اہم کرداراداکررہے ہیں ۔

انہوں نےکہاکہ بین الاقوامی برادری کی یہ ذمہ داری ہےکہ داعش کےخلاف جنگ میں ملوث سبھی ممالک اورشامی حکومت کو اعتماد میں لاکر وحشی گروہ داعش اوراسکے تخلیق کاروں کوانکے کیفرکردار تک پہنچائے۔

ولیم جونز نے مزیدترک حکام اوراسکے اتحادیوں جو کہ مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام اورافراتفری کے ذمہ دار ہیں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہاکہ ان ممالک کو اپنے ناجائزمفادات کو چھوڑ کر خطے کی خوشحالی اورسلامتی کیلئےایک جھٹ ہوکر کام کرنا چاہئے ۔

۔۔۔۔۔

/169